Nawaz Yousaf Aziz Magsi was born in Jhal Magsi in1908. His Excellency was a prominent Baloch leader from the present-day Balochistan province of Pakistan. He hailed from the Magsi tribe headquartered in Jhal Magsi, the ancestral home of the Magsi. His title was Nawab, which means "ruling prince" or "tribal chief". His father, Nawab Kaiser Khan Magsi, was the Nawab of the Magsi tribe. Nawab Yousaf Aziz Khan obtained his education at home. He was able to master Arabic, Persian and Urdu within a few years. Then he was taught English by a private tutor for two years.
In 1922, because of some family problems Yousaf Magsi's father Nawab Kaiser Khan and Yousaf himself had to go into exile in Multan. Yousaf Khan stayed in exile in Multan until 1929. Nawab Yousaf Aziz Khan was impressed by the revolutionary atmosphere of Punjaband was drawn toward the Indian National Congress' struggle for independence from British rule. He was filled with a desire to launch a similar struggle in Balochistan. His first step in this regard was an article he wrote, titled "Balochistan Kee Faryaad" or "Balochistan's Lament", which was published in a weekly newspaper, Hamdard, on November 17, 1929. As a result of this article, a special Jirga held in Qalat on July 17, 1930 sentenced Mir Yousaf Aziz Khan to one year of solitary confinement in Zehri and an 11,000 rupee fine. Nawab Yousaf Aziz also published the pamphlet Baluchistan Kee Awaz (Voice of Baluchistan), which was sent to the British parliament to raise awareness of his cause. During the proceedings of the above-mentioned Jirga, Nawab Yousaf Aziz Khan was held in Mastung Jail. While he was in jail, members of a clandestine political party (Anjuman-i-Ithihaad i Balochaan), who were also deeply impressed by the struggle of the Indian National Congress, contacted Yousaf Ali Khan. They helped him during his solitary confinement. In 1931, after completing his sentence, Mir Yousaf Ali Khan came to Quetta where, along with Mir Abdul Aziz Kurd, Nawabzada Mir Abdul Rehman Bugti, Mohammad Hussain Unqa, Malik Faiz Mohammad Yousafzai and others, he officially announced the Anjuman-i-Ithihaad i Balochaan as a political party. Mir Abdul Aziz Kurd was elected as theGeneral Secretary of the party while Mir Yousaf Ali Khan became its President. The Prime Minister of Kalat issued orders to arrest Yousaf Ali Khan once again but Yousaf somehow learned about the plan to arrest him beforehand, so he went and took refuge inJacobabad, where he started his famous Magsi Agitation. After the death of the Khan of Kalat, Mir Mehmood Khan II, Prime Minister Sir Shams Shah lobbied Mir Mehmood Khan II's son Mir Mohammad Anwar Khan to the throne while on the other side, Mehmood Khan's brother Mir Azam Khan claimed to be the rightful heir to the throne of Kalat. Anjuman-i-Ithihaad i Balochaan announced their support for Mir Azam Khan and successfully launched a struggle to appoint him as the Khan of Kalat. After Mir Azam Khan became the Khan, Sir Shams Shah was fired from his position as the Prime Minister of Kalat. In 1932, Mir Yousal Ali Khan's elder brother Nawab Gul Mohammad Khan Magsi (who had become the Nawab of the Magsi tribe after the death of Nawab Kaiser Khan) was impeached, and in his place Yousaf Ali Khan was elected as the chief of the tribe. In 1934 Nawab Yousaf Ali Khan went to Europe and stayed there for eight or nine months. On his return to Balochistan on January 31, 1935, he resumed his struggle with great vigour and zeal. On May 31, 1935, Quetta was hit with a earthquake which claimed thousands of lives. Among the casualties was Nawab Yousaf Aziz Khan Magsi.
نواب یوسف عزیز مگسی جھل مگسی 1908 میں پیدا ہوئے تھے. ہز ایکسی لینسی پاکستان کے موجودہ صوبہ بلوچستان سے ایک ممتاز بلوچ رہنما تھے. ان کا تعلق اپنے آبائی علاقے جھل مگسی سے تھا. ان کے والد نواب قیصر خان مگسی، مگسی قبیلے کے نواب تھے. نواب یوسف عزیز خان نے ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی. انہوں نے چند سال کے اندر اندر عربی، فارسی اور اردو میں مہارت حاصل کرلی تھی. اس کے بعد انہوں نے دو سال تک ایک پرائیویٹ ٹیوٹر سے انگریزی کی تعلیم حاصل کی.
1922 میں کچھ خاندانی مسائل کے سبب یوسف مگسی کے والد نواب قیصر خان کو ملتان میں جلاوطنی میں گزارنا پڑا. میں نواب یوسف عزیز مگسی پنجابند کے انقلابی ماحول سے متاثر ہوئے. جو برطانوی راج سے آزادی کے لیے انڈین نیشنل کانگریس کی جدوجہد سے تیار کی گئی تھی 1929 تک ملتان میں جلاوطنی میں ٹھہرے رہے. انکا دل بلوچستان میں ایک اسی طرح کی جدوجہد شروع کرنے کی خواہش کے ساتھ بھرا ہوا تھا. اس سلسلے میں انہوں نے پہلے قدم کےطور پر ایک مضمون لکھا، جس کا عنوان "بلوچستان کی فریاد" تھا جو نومبر 17، 1929 کو ایک ہفتہ روزہ اخبار"ہمدرد" میں شائع کیا گیا اس مضمون کے نتیجے میں ایک خاص جرگہ 17 جولائی 1930 میں قلات میں منعقد ہوا جس میں انھیں ایک سال کے لئے مستونگ کے مقام پر قید کیا گیا اور گیارہ ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا. 1930 میں ہی نواب یوسف عزیز نے قید کے دوران ایک پمفلٹ (بلوچستان کی آواز) کے نام سے جاری کیاجو بوچستان کے بارے میں شعور بلند کرنے کے لئے برطانوی پارلیمنٹ کو بھیجا گیا تھا شائع کیا. جیل میں قید کے دوران ایک خفیہ سیاسی جماعت انجمن اتاد بلوچستان کے اراکین جو انڈین نیشنل کانگریس کی جدوجہد سے بہت متاثر تھے، یوسف علی خان سے رابطہ کیا. 1931 میں سزا مکمل کرنے کے بعد میر یوسف علی خان کوئٹہ آئے جہاں میر عبدالعزیز کرد، نوابزادہ میر عبدالرحمان بگٹی، محمد حسین انکا، ملک فیض محمد یوسفزئی اور دیگر افراد کے ساتھ انہوں نے سرکاری سطح پرانجمن اتحاد بلوچستان کا بطور سیاسی پارٹی اعلان کیا. نواب یوسف علی خان اس کے صدر بن گئے جبکہ میر عبدالعزیز کرد جماعت کے جنرل سیکرٹری کے طور پر منتخب کیا گیا تھا. قلات کے وزیر اعظم نے ایک بار پھر یوسف علی خان کو گرفتار کرنے کے احکامات جاری کئے لیکن وہ پہلے ہی جیکب آباد چلے گئے۔ اور وہاں انہوں نے اپنا مشہور "مگسی احتجاج" شروع کر دیا. قلات میر محمود خان دوئم کی وفات کے بعد وزیر اعظم سر شمس شاہ نے نئے خان کے لئے محمود خان دوئم کے بیٹے محمد انور خان کے لئے لابنگ شروع کر دی جبکہ دوسری طرف محمود خان دوئم کے بھائی میر اعظم خان درست وارث ہونے کے دعویدار تھے انجمن اتحاد بلوچستان نے میر اعظم خان کی حمایت کا اعلان کیا اور قلات کے خان کےلئے میر اعظم خان کو مقرر کرنے کی جدوجہد کا آغاز کیا. میر اعظم خان, خان آف قلات بن گیاجس کے بعد سر شمس شاہ کو قلات کے وزیر اعظم کے طور پر ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا. 1932 میں یوسف علی خان کے بڑے بھائی نواب گل محمد خان مگسی (جو نواب قیصر خان کی وفات کے بعد مگسی قبیلے کے نواب بن گئے تھے) کا مواخذہ کیا گیا تھا، اور ان کی جگہ میر یوسف علی خان کو قبیلے کے سربراہ کے طور پر منتخب کیا گیا تھا . 1934 میں نواب یوسف علی خاں یورپ گئے اور آٹھ یا نو ماہ کے لئے وہاں ٹہرے رہے. 31 جنوری، 1935 کو بلوچستان میں ان کی واپسی ہوئی واپسی پر نہایت جوش اور ولولے کے ساتھ جدوجہد کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا
31 مئی 1935 کو کوئٹہ میں ہولناک زلزلہ آیا ہزاروں ہلاکتوں میں نواب یوسف عزیز خان مگسی بھی تھا جس سے بلوچستان کی حریت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا. اور بلوچستان اپنے جانباز سپوت سے محروم ہو گیا.
Wednesday, 1 June 2016
Nawab Yousaf Aziz Magsi- The Man of courage in Balochistan.
Wednesday, 21 October 2015
Hazrat Sufi syed Rakhial Shah and Hazrat Sufi syed Cheezal Shah, Sufi saints of Balochistan.
Dargah fatehpur shareef men Bolan aur Mehran k Sufi poets aur waliullah ke mazar hen. Dargah k pehle Sufi Buzrig Hazrat Sufi Rakhial Shah Alhussaini sufi- alqadri aur unke farzand-e-arjumand Hazrat Sufi Cheezal Shah Alhussaini sufi- alqadri k mazar hen wo Hazrat Sufi Shah Inayat of Jhok meeranpur sindh k mureedain men se taluq rakhte hen. In sufi buzrigan-e-Din ne apni talimat se hazaron logon ko musharaf ba Islam kia aur apni shaairi k zrye Tauheed aur Risalat ki Taleem di. Dargah k moujooda sajada nasheen Sufi Syed Sarfarz Ali Shah Alhussaini sufi- alqadri hen. Baluchistan aur Sindh k elawa na sirf Pakistan balke Bairoone mulk b kafi inke kafi mureedain hen Jo hr sal 11 March to 14 March ko salana Urs Mubarak manane pahunchte hen.
Friday, 21 August 2015
Ibne Insha, Poet and Writer of Pakistan- A short Biography and introduction in Urdu.
ابن انشاء
شاعر مزاح نگار،اصلی نام شیر محمد خان تھا اور تخلص انشاء۔ آپ 15 جون 1927 کو جالندھر کے ایک نواحی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ 1946ء میں پنجاب یونیورسٹی سے بی اے اور 1953ء میں کراچی یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ 1962ء میں نیشنل بک کونسل کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔ ٹوکیو بک ڈوپلمنٹ پروگریم کے وائس چیرمین اور ایشین کو پبلی کیشن پروگریم ٹوکیو کی مرکزی مجلس ادارت کے رکن تھے۔ روزنامہ جنگ کراچی ، اور روزنامہ امروزلاہورکے ہفت روزہ ایڈیشنوں اور ہفت روزہ اخبار جہاں میں ہلکے فکاہیہ کالم لکھتے تھے۔ دو شعری مجموعے، چاند نگر 1900ء اور اس بستی کے کوچے میں 1976ء شائع ہوچکے ہیں۔ 1960ء میں چینی نظموں کا منظوم اردو ترجمہ (چینی نظمیں) شائع ہوا۔
اس بستی کے اک کونے میں
چاند نگر
دلِ وحشی
بلو کا بستہ (بچوں کے لیے نظمیں)
ابن انشاء نے یونیسکو کےمشیر کی حیثیت سے متعدد یورپی و ایشیائی ممالک کا دورہ کیا تھا۔ جن کا احوال اپنے سفر ناموں میں اپنے مخصوص طنزیہ و فکاہیہ انداز میں تحریر کیا۔اُن کے سفرنامے درج ذیل ہیں۔
آوارہ گرد کی ڈائریدنیا گول ہے
ابن بطوطہ کے تعاقب
میںچلتے ہو تو چین کو چلیے
نگری نگری پھرا مسافر
آپ سے کیا پردہ
خمار گندم
اردو کی آخری کتاب
آپ کا انتقال 11 جنوری 1978 کو ہوا.
Saturday, 8 August 2015
پروین شاکر Parveen Shakir a great poetess
پروین شاکر کو اردو کی منفرد لہجے کی شاعرہ ہونے کی وجہ سے بہت ہی کم عرصے میں وہ شہرت حاصل ہوئی جو بہت کم لوگوں کو حاصل ہوپاتی ہے۔ پاکستان کے شہر کراچی میں پیدا ہوئیں۔ آپ کے والد کا نام سید شاکر حسن تھا۔ ان کا خانوادہ صاحبان علم کا خانوادہ تھا۔ ان کے خاندان میں کئی نامور شعرا اور ادبا پیدا ہوئے۔ جن میں بہار حسین آبادی کی شخصیت بہت بلند و بالا ہے۔آپ کے نانا حسن عسکری اچھا ادبی ذوق رکھتے تھے انہوں بچپن میں پروین کو کئی شعراء کے کلام سے روشناس کروایا۔ پروین ایک ہونہار طالبہ تھیں۔ دورانِ تعلیم وہ اردو مباحثوں میں حصہ لیتیں رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ریڈیو پاکستان کے مختلف علمی ادبی پروگراموں میں شرکت کرتی رہیں۔ انگریزی ادب اور زبانی دانی میں گریجویشن کیا اور بعد میں انہی مضامین میں جامعہ کراچی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ پروین شاکر استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہیں اور پھر بعد میں آپ نے سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔
سرکاری ملازمت شروع کرنے سے پہلے نو سال شعبہ تدریس سے منسلک رہیں، اور 1986ء میں کسٹم ڈیپارٹمنٹ ، سی۔بی۔آر اسلام آباد میں سیکرٹری دوئم کے طور پر اپنی خدمات انجام دینے لگیں۔1990 میں ٹرینٹی کالج جو کہ امریکہ سے تعلق رکھتا تھا تعلیم حاصل کی اور 1991ء میں ہاورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ پروین کی شادی ڈاکٹر نصیر علی سے ہوئی جس سے بعد میں طلاق لے لی۔
شاعری میں آپ کو احمد ندیم قاسمی صاحب کی سرپرستی حاصل رہی۔ آپ کا بیشتر کلام اُن کے رسالے فنون میں شائع ہوتا رہا۔
انکی شاعری کا موضوع محبت اور عورت ہے۔ پروین شاکر کی پوری شاعری ان کے اپنے جذبات و احساسات کا اظہا رہے جو درد کائنات بن جاتا ہے اسی لیے انہیں دور جدید کی شاعرات میں نمایاں مقام حاصل ہے ۔۔ حالانکہ وہ یہ بھی اعتراف کرتی ہیں کہ وہ اپنے ہم عصروں میں کشور ناہید، پروین فنا سید، فہمیدہ ریاض کو پسند کرتی ہیں ، لیکن ان کے یہاں احساس کی جو شدت ہے وہ ان کی ہم عصر دوسری شاعرات کے یہاں نظر نہیں آتی ۔ اُن کی شاعری میں قوس قزح کے ساتوں رنگ نظر آتے ہیں ۔ اُن کے پہلے مجموعے خوشبو میں ایک نوجوان دوشیزہ کے شوخ و شنگ جذبات کا اظہار ہے اور اس وقت پروین شاکر اسی منزل میں تھیں۔ زندگی کے سنگلاخ راستوں کا احساس تو بعد میں ہوا جس کا اظہار ان کی بعد کی شاعری میں جگہ جگہ ملتا ہے ۔ ماں کے جذبات شوہر سے ناچاقی اور علیحدگی، ورکنگ وومن کے مسائل ان سبھی کو انہوں نے بہت خوبصورتی سے قلمبند کیا ہے۔
26 دسمبر 1994ء کو ٹریفک کے ایک حادثے میں اسلام آباد میں ، بیالیس سال کی عمر میں مالک حقیقی سے جا ملیں۔ لواحقین میں ان کے بیٹے کا نام مراد علی ہے۔